’’7 سال عدالت میں پیشیاں ، 6 ماہ سینٹرل جیل کی قید ، ثبوت پھر نہ ملے‘‘صحافی عظیم بٹ کا معاملہ ایک سال عدالتی نگرانی میں بھیج دیا گیا

لاہور ( پنجاب پوسٹ )پیکا (PECA) ایکٹ کے تحت 2019 میں درج کیے گئے مقدمے میں نامزد رپورٹر عظیم کو سات سال بعد عدالت نے ایک سالہ عدالتی نگرانی پر بھیج دیا۔

‎عظیم بٹ کے مطابق ان کے خلاف مئی 2019 میں ایف آئی اے نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کے بعد انہیں 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا اور تقریباً چھ ماہ سینٹرل جیل لاہور میں گزارنے پڑے۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت منظور ہوئی جبکہ مقدمے کی سماعت گزشتہ سات برس سے جاری تھی۔

رپورٹر عظیم بٹ کا کہنا ہے کہ 16 جولائی 2026 کو عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ایک سالہ پروبیشن پر بھیج دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایف آئی اے سات سال کے دوران ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا گواہ پیش نہ کر سکی جس سے ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں یا اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا الزام ثابت ہو سکے۔

عظیم بٹ نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر استغاثہ سات سال میں الزامات ثابت نہیں کر سکا تو اس عرصے میں ہونے والے ذہنی، مالی اور جسمانی نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ انہوں نے قانونی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم عدالت میں پیش نہ ہو تو اسے اشتہاری قرار دیا جاتا ہے لیکن اگر تفتیشی ادارہ برسوں میں بھی مؤثر شواہد پیش نہ کر سکے تو اس کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے