لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں عوامی سہولیات کے لیے مختص زمینوں سے متعلق 23 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس راحیل کامران نے قرار دیا کہ پارک، اسکول، سڑک اور قبرستان کے لیے مختص زمینیں عوام کا حق ہیں اور انہیں ہاؤسنگ سوسائٹی مالکان کو واپس نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ رفاعی مقاصد کے لیے مختص جائیدادیں ایل ڈی اے کے پاس عوامی امانت ہیں اور ایل ڈی اے کو ان زمینوں کو اپنے اثاثوں کے طور پر فروخت یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری افسران عوام کے خادم ہیں، حاکم نہیں، جبکہ 30 سال تک اسکول کی زمین کو تعلیمی مقصد کے لیے استعمال نہ کرنا بدانتظامی اور رہائشیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تین ماہ کے اندر اسکول کی تعمیر کے عمل کا آغاز کیا جائے اور واضح کیا کہ شہریوں کو تعلیم اور بہتر ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
عدالت نے ہاؤسنگ سکیم انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اسکول، سڑک اور پارک کے لیے مختص زمینیں واپس لینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ زمینیں ہاؤسنگ سکیم کی منظوری کے لیے لازمی شرط کے تحت رضاکارانہ طور پر حکومت کے حوالے کی گئی تھیں، اس لیے 30 سال بعد ان کی واپسی کا کوئی قانونی حق نہیں بنتا۔
واضح رہے کہ نجی ہاؤسنگ سکیم انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایل ڈی اے نے نہ مختص زمین پر اسکول تعمیر کیا اور نہ ہی زمین واپس کی، جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ اسکول تعمیر نہ ہونے کی صورت میں زمین دوبارہ سکیم انتظامیہ کے حوالے کی جائے، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔













