لاہور (پنجاب پوسٹ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تیسری مذمتی قرارداد جمع کرا دی گئی۔
شاہکوٹ سے حلقہ پی پی-133 کے رکنِ صوبائی اسمبلی اور چیف وہپ پنجاب اسمبلی رانا محمد ارشد نے، جو اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں، ڈیجیٹل دستخط کے ساتھ قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ بھجوا دی۔
قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا بیان افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ، عوامی جذبات، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کے منافی ہے، لہٰذا ایوان اس بیان کی مذمت کرتا ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بیان سے شہدائے پاکستان کے ورثا کی دل آزاری ہوئی، جبکہ معرکۂ حق، ضربِ عضب، افغانستان اور بلوچستان میں شہید ہونے والوں کی قربانیوں کی توہین کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہیں اور ان کے کردار پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں، جبکہ افواجِ پاکستان کے افسران اور جوان وطن کے دفاع کے لیے مسلسل جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اس لیے شہداء کی قربانیوں کا تمسخر اڑانا مناسب نہیں۔
قرارداد میں سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو استحکام پاکستان کے لیے کی جانے والی کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا گیا، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قومی پالیسی پر عملدرآمد، جرات، بہادری اور قیادت کو بھی سراہا گیا۔ متن میں کہا گیا کہ 10 مئی 2025 کے معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان نے بھارت کو شکست دی، جس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
قرارداد میں سوال اٹھایا گیا کہ شہدائے پاکستان کی تضحیک کر کے کس کو خوش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ شہید ہمیشہ زندہ ہوتا ہے اور شہداء کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ تنخواہ سیاستدان اور سرکاری ملازمین بھی لیتے ہیں، مگر سرحدوں کے محافظوں کا مقام سب سے بلند ہے، اس لیے افواجِ پاکستان کی تضحیک کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
متن میں مزید کہا گیا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار ہے۔ قرارداد میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اختلافِ رائے ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، مگر قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے قومی مفاد کو مقدم رکھنے، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے اور قومی اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچانے والے بیانات سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
قرارداد میں شہداء اور غازیوں کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی عزت، وقار اور قربانیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ قرارداد کے اختتام پر "پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر زندہ باد، شہدائے پاکستان کو سلام” کے نعرے بھی درج کیے گئے۔














