ملتان ( پنجاب پوسٹ ) ملتان شہر میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے ، جہاں زیادتی کا مقدمہ درج کروانے کیلئے خاتون مسلسل پانچ دن تھانے آتی رہی مگر پولیس اہلکار مقدمہ درج کرنے کی بجائے اس پر ہنستے رہے ، چھٹے روز خاتون نے پولیس کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کرلی ۔ آر پی او ملتان نے واقعہ کا نوٹس لیکر اندراج مقدمہ میں تاخیر کرنے پر غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب ایس ایچ او بدھلہ، انویسٹیگیسسن آفیسر اور محرر تھانہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ متعلقہ ڈی ایس پی نیو ملتان ارشاد بلوچ کو آئی جی پنجاب کے حکم پر معطل کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق 10 جولائی 2026 کو شمیم نامی خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزم اشفاق اور اس کے ساتھیوں نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ خاتون کی درخواست ٹیگ کے تحت تھانہ بدھلہ سنت کو موصول ہوئی، تاہم ایس ایچ او عظیم ذوالفقار نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ خاتون کی جانب سے کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : نو شہرہ ورکاں : عدالتی پیشی سے واپسی پر مخالفین کی فائرنگ سے شہری جان سے گیا
ذرائع کے مطابق درخواست وصول ہونے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کو میڈیکل کے لیے ریفر تو کیا، لیکن وقوعہ کی تصدیق نہ ہونے کی رپورٹ درج کر دی، جبکہ میڈیکل کے نمونے بھی بروقت فرانزک لیبارٹری ارسال نہیں کیے گئے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ایس ایچ او عظیم ذوالفقار، سب انسپکٹر وسیم عباس اور محرر ہیڈ کانسٹیبل محمد سلیم پر اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت، لاپرواہی اور قانون کے مطابق کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ سی 155سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دوسری ایف آئی آر کے مطابق متعلقہ ڈی ایس پی نیو ملتان ارشاد بلوچ پر بھی اپنے ماتحت افسران کی مؤثر نگرانی نہ کرنے، شکایت کے بروقت ازالے میں ناکامی اور فرائض میں غفلت برتنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب کے احکامات پر انہیں معطل کر دیا گیا، جبکہ ان کے خلاف مقدمہ ڈی ایس پی مخدوم رشید محمد جہانگیرکی مدعیت میں درج کیا گیا۔
پولیس دستاویزات کے مطابق متاثرہ خاتون نے بعد ازاں مبینہ طور پر خودکشی کر لی، جس کے بعد آر پی او ملتان نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ مقدمات درج ہونے کے بعد مزید تفتیش جاری ہے۔










