گوجرانوالہ ( نورین فاطمہ ) گوجرانوالہ میں 12 اگست 2021 کو 13 سو طلبہ نے 60 سیکنڈ میں 50 ہزار پودے لگا کر عالمی ریکارڈ بنایا ، تاہم اب خبریں سامنے آرہی ہیں کہ میٹرو منصوبے کی آڑ میں جی ٹی روڈ اور دیگر مقامات میں لگائے گئے یہ پودے پانچ برس بعد کاٹ کر بیچ دئیے گئے ہیں ۔
سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز گردش کر رہی ہیں ، جن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جی ٹی روڈ اور دیگر شاہراوں کے کنارے لگے درخت کاٹ کر بیچ ڈالے ہیں ، ویڈیوز میں سبز پودے کاٹ کر ٹرالیوں میں لوڈ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں ۔
واضح رہے کہ شہر کے اندرونی علاقوں میں ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے دور میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی گئی تھی، جس میں طلبہ کو شامل کر کے ہزاروں درخت لگائے گئے اور ایک ریکارڈ بھی قائم کیا گیا۔ اب انہی درختوں کو میٹرو منصوبے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ہٹایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گوجرانوالہ اشتہاری ملزم کو گرفتاری کی خبر دینے والا کانسٹیبل خود گرفتار
ابتدائی طور پر انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ درختوں کو کاٹنے کے بجائے انہیں جڑوں سمیت نکال کر دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا تاکہ ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔ کچھ مقامات پر اس عمل کا آغاز بھی کیا گیا، تاہم اب شہریوں کا دعویٰ ہے کہ کئی جگہوں پر درختوں کو منتقل کرنے کے بجائے کاٹا جا رہا ہے۔
شہریوں نے سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کیا کہ پہلے ہی گوجرانوالہ کا ماحول ٹھیک نہیں ہے اور ایسے میں درخت کاٹنا مزید نقصان دہ ہو گا۔ جس پر انتطامیہ نے کہا کہ ہم درخت ضائع نہیں کریں گے بلکہ انہیں محفوط مقام پر منتقل کریں گے۔
پی ایچ اے کا مئوقف
ایم ڈی پی ایچ اے کے مطابق درختوں کی محفوظ منتقلی کے لیے 8 کروڑ روپے جاری کئے گئے تھے۔ لیکن عوام کی جانب سے ویڈیوز شئیر کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ درختوں کو کاٹ کر فروخت کیا جارہا ہے ۔ عوامی دباو بڑھنے پر ایم ڈی پی ایچ اے شاہدعباس نے دو دن پہلے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ 11 کروڑ روپے تھا ، لیکن ہمیں 10 کروڑ روپے جاری کئے گئے۔ اتنی رقم سے درخت منتقل کرنا پی ایچ اے کیلئے مشکل تھا۔








