لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک سے گرفتار ملزم محمد مظہر کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے خدشے سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ملزم کے خلاف کوئی بھی غیر قانونی یا ماورائے قانون کارروائی نہ کی جائے۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے فرزانہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم قصوروار ہے تو اس کے خلاف قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جائے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
یہ بھی پڑھیں : سی سی ڈی کی بڑی کامیابی، اب تک کتنے بچے بحفاظت والدین کے سپرد کیے؟
دوران سماعت پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم محمد مظہر اس وقت پولیس کی حراست میں نہیں ہے، جبکہ اس کے خلاف تھانہ ترکھانی، سمندری میں قتل کا مقدمہ درج ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل عرفان فیض کلار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے بیٹے محمد مظہر کو سابقہ رنجش کی بنیاد پر قتل کے مقدمے میں ملوث کیا گیا، جس کے باعث وہ جان کے خوف سے سعودی عرب چلا گیا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بعد ازاں سی سی ڈی نے انٹرپول کے ذریعے اسے گرفتار کرایا اور خدشہ ہے کہ وطن واپسی پر اسے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کے بیٹے کو مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کیے جانے سے روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں، جس پر عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔












