لاہور (پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق کا اہم فیصلہ سامنے آیا۔جسٹس امجد رفیق نے قتل کیس میں ویڈیو شہادت سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے۔پرائیویٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی قانونی حیثیت اور تفتیشی نقائص پر چھ اہم سوالات تشکیل دیے گئے۔
کیا صرف سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ملزم کو سزا دی جا سکتی ہے؟ عدالت نے اہم سوال اٹھا دیا۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی روشنی میں گواہوں کے بیانات مسترد کرنے سے متعلق بھی قانونی سوال اٹھایا گیا۔ملزمان کی شناخت کے لیے پکسل انہانسمنٹ اور فرانزک دوبارہ تجزیے پر بھی معاونت طلب کر لی گئی۔
عدالت میں قتل کیس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کھلی عدالت میں چلا کر جائزہ لیا گیا۔ویڈیو اور الیکٹرانک شہادت کے مؤثر استعمال اور تشریح کے لیے دو معاونینِ عدالت مقرر کر دیے گئے۔
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شیبا قیصر کو معاونِ عدالت مقرر کر دیا گیا۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد نوید عمر بھٹی بھی معاونِ عدالت مقرر کر دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ ججز روسٹر، 31 اکتوبر تک 30 ججز کن مقدمات کی سماعت کریں گے ؟
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب چوہدری عرفان صادق تارڑ اور ڈی جی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو طلب کر لیا گیا۔لاہور ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور ڈی جی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو نوٹس جاری کر دیے۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے عمر قید کے مجرم راجہ شاہد کی اپیل پر تحریری حکم جاری کر دیا۔عدالت نے ویڈیو شہادت اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی شرعی و قانونی حیثیت پر معاونت طلب کر لی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے واضح نہ ہونے پر اہم قانونی سوالات فریم کیے گئے۔ویڈیو شہادت کے اہم قانونی نکات پر کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے ہوگی۔










