لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) نے ایک بار پھر عوامی خدمت کے اپنے مشن کو عملی شکل دیتے ہوئے اغواء برائے تاوان سیل کی کامیاب کارروائیوں کے ذریعے پانچ گمشدہ اور گھر سے بھاگے بچوں کو ٹریس کر کے بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔
ان کارروائیوں میں ایک انتہائی حساس کیس بھی شامل تھا، جہاں ایدھی سینٹر میں گزشتہ چار روز سے موجود ایک گونگی اور بہری کمسن بچی اپنی شناخت یا گھر کا پتہ بتانے سے مکمل طور پر قاصر تھی۔ بچی کی بے بسی کے باوجود سی سی ڈی نے ہمت نہیں ہاری اور ایدھی سینٹر کے تعاون سے تحقیقات کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں : غیر معیاری مشروبات اور ناقص خوراک کیخلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن
سی سی ڈی ٹیم نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران لاہور میں درج بچیوں کے اغواء کے مقدمات کا تفصیلی جائزہ لیا اور گمشدہ بچوں کے والدین سے رابطے کیے۔ مسلسل کوششوں کے بعد تھانہ مناواں میں درج مقدمے کے مدعی محمد صفدر نے بچی کو شناخت کر لیا، جس کے بعد وہ فوری طور پر ایدھی سینٹر پہنچے اور اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے گئے۔
اسی طرح لاہور کے مختلف تھانوں میں درج اغواء کے مقدمات میں مطلوب مزید چار بچوں کو بھی کامیابی سے ٹریس کر لیا گیا۔ تمام بچوں کو مکمل حفاظت کے ساتھ ان کے والدین کے سپرد کر دیا گیا، جس پر والدین نے سی سی ڈی، ایدھی سینٹر اور سیف سٹی کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
ترجمان سی سی ڈی کے مطابق بچوں کی تلاش میں ایدھی سینٹر اور سیف سٹی کے تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق بچوں سے زیادتی، استحصال، چائلڈ لیبر اور بچوں کے خلاف ہر قسم کے جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، اور معصوم بچوں کا تحفظ سی سی ڈی کی اولین ترجیح اور ریڈ لائن ہے۔








