آزاد کشمیر الیکشن: آئی پی پی اور مرکزی مسلم لیگ کا انتخابی اتحاد

لاہور (پنجاب پوسٹ) فلیٹیز ہوٹل میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں آزاد جموں و کشمیر مشترکہ پریس کانفرنس کے انتخابات کے لیے انتخابی اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کی دو نشستوں پر دونوں جماعتیں مل کر الیکشن لڑیں گی۔
استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما ملک زمان نصیب نے کہا کہ ان کی جماعت اور مرکزی مسلم لیگ کے درمیان آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے اتحاد طے پا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کی دو نشستوں پر مشترکہ امیدواروں کی حمایت کی جائے گی اور دونوں جماعتیں مل کر انتخابی مہم چلائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی قربانیوں کی بدولت کشمیر کی تحریک زندہ ہے جبکہ اتحاد کی مخالفت کرنے والوں کے پیچھے سازش کارفرما ہے۔


مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل چوہدری عبدالحمید گجر نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز آئی پی پی کا وفد ان کے پاس آیا تھا اور قیادت کی مشاورت کے بعد اتحاد کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے دونوں حلقوں میں اس اتحاد کے مثبت نتائج واضح طور پر نظر آئیں گے۔
انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان کو محب وطن شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے ان کے اعلانات قابلِ ستائش ہیں۔ چوہدری عبدالحمید گجر نے مولانا فضل الرحمان کو قابل احترام قرار دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ شہداء کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان کو واپس لیں۔
استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما رانا نذیر نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ اور ان کی جماعت کا نظریہ ایک ہے، دونوں پاکستان سے محبت اور شہداء کی عزت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عبدالعلیم خان کے تعاون سے لاہور کی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد مستقبل میں پنجاب اور پورے پاکستان تک بھی وسعت اختیار کر سکتا ہے۔


رانا نذیر نے کہا کہ دونوں جماعتوں کی جدوجہد جمہوریت اور نظریہ پاکستان کے لیے ہے۔ انہوں نے پاکستان کو اللہ تعالیٰ کا تحفہ اور ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کے بعد پاکستانی پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤقف نے ملک بھر میں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ان کی جماعت نے 38 نشستوں پر امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور اس بار انتخابی نتائج ماضی سے مختلف ہوں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ماضی میں حکمران جماعتیں کامیاب ہوتی رہی ہیں لیکن اب یہ روایت ختم ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال، عمران خان اور دیگر سیاسی معاملات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ آئندہ انتخابات میں عوامی رائے زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے