لاہور( پنجاب پوسٹ) پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے مینارِ پاکستان پر ورکرز کنونشن کی اجازت نہ ملنے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے پانچ ہفتے گزرنے کے باوجود کنونشن کی اجازت نہیں دی، تاہم اجازت نہ ملنے کی صورت میں بھی ورکرز کنونشن منعقد کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں مجید غوری، خرم فاروق، احمد گھمن، ازین گلزار، طاہرہ جالب، عامر نصیر بٹ، امجد جٹ، راؤ شجاعت، شاویز ندیم اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
فیصل میر نے کہا کہ پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اجازت نہ ملنے پر پرامن احتجاج کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ملکی صورتحال کے پیش نظر پارٹی قیادت نے احتجاج مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں پیپلز پارٹی کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے مناسب سپیس نہیں دی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں نوجوانوں تک رسائی، پیپلزپارٹی کا سوشل میڈیا سیل کیسے کام کرتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر دیگر سیاسی جماعتوں کو اجتماعات کی اجازت دی جا سکتی ہے تو پیپلز پارٹی کو کیوں نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ میثاقِ جمہوریت کی روح کے مطابق ورکرز کنونشن کی اجازت دی جائے۔
فیصل میر نے اعلان کیا کہ اگر اجازت نہ ملی تو 17 جولائی سے مینارِ پاکستان کے باہر روزانہ رات مشعل بردار جلوس نکالے جائیں گے، جو کنونشن کی اجازت ملنے تک جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں بھی پارٹی مینارِ پاکستان میں ورکرز کنونشن منعقد کرے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں پیپلز پارٹی دوبارہ متحرک ہو رہی ہے اور بلدیاتی انتخابات میں اصل مقابلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکرز کنونشن میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجید غوری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا کارکن لاہور میں دوبارہ متحرک ہو چکا ہے اور 25 جولائی کو ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔ ازین گلزار نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو اپنے نظریے کے مطابق پرامن سیاسی سرگرمیوں کا حق حاصل ہے اور پنجاب حکومت کو ورکرز کنونشن کی اجازت دینی چاہیے۔














