لاہور (پنجاب پوسٹ ) ریلوے لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایس ریلوے لاہور کی ٹیم نے ریلوے قوانین اور لینڈ پالیسی کے برعکس فیصلے کرتے ہوئے گورومانگٹ روڈ پر واقع سیون اپ پھاٹک سے ملحقہ قیمتی ریلوے اراضی پارکنگ کے لیے الاٹ کر دی
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ زمین ریلوے کی مین لائن کے ساتھ واقع ہے، جہاں ریلوے قوانین کے مطابق 100 فٹ کے اندر کسی بھی قسم کی کمرشل سرگرمی یا زمین لیز پر دینے کی اجازت نہیں۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر ریلوے لینڈ پالیسی سے ہٹ کر قیمتی اراضی کی الاٹمنٹ کر دی گئی، جس پر قانونی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھہی پڑھیں : لاہور: ٹریفک سگنلز پر پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 99 گرفتار
ذرائع کے مطابق بعض من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریلوے پالیسی کے برخلاف قیمتی زمینوں کی نیلامی اور الاٹمنٹ کی گئی، جبکہ اس عمل میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کو بھی نظر انداز کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ان مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد ریلوے کی قیمتی اراضی کی الاٹمنٹ اور نیلامی کے فیصلوں پر تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ متعلقہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قومی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔












