دھماکہ خیز مواد کیس نے نیا موڑ لے لیا، کیا ملزم رہا ہو گیا؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) انسدادِ دہشت گردی عدالت میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے تعلق اور دھماکہ خیز بارودی مواد رکھنے کے مقدمے کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا، جہاں عدالت نے شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملزم محمد سرفراز کو تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ عدالت کے سامنے ملزم کے خلاف عائد کیے گئے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے قانون کے مطابق ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے کے وقت ملزم محمد سرفراز کو جیل سے سخت سیکیورٹی میں عدالت لایا گیا تھا۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت نے اس کی فوری رہائی کا حکم بھی جاری کر دیا، بشرطیکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔

استغاثہ کے مطابق سی ٹی ڈی نے سال 2025 میں محمد سرفراز کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے، اس کے قبضے سے دھماکہ خیز بارودی مواد برآمد ہوا اور وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق محمد سرفراز برکی ہڈیارہ کا رہائشی ہے اور بطور پولیس کانسٹیبل خدمات انجام دے چکا ہے۔ وہ مقدمہ درج ہونے کے بعد سے 2025 سے جیل میں قید تھا۔

سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے جمیل سرور ملک ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے استغاثہ کے شواہد پر اعتراضات اٹھائے۔ عدالت نے مقدمے کے تمام شواہد، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ دورانِ ٹرائل استغاثہ اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکا۔

عدالت کا یہ فیصلہ اس مخصوص مقدمے تک محدود ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ابتدائی الزامات عدالت کی جانب سے درست قرار دیے گئے تھے۔ عدالت نے صرف یہ قرار دیا کہ پیش کیے گئے شواہد قانونی معیار پر الزامات ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے، اسی بنیاد پر ملزم کو بری کیا گیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے