لاہور( پنجاب پوسٹ ) ضلع کچہری میں منگل کے روز توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار پوڈ کاسٹر ریحان طارق کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے پولیس کی رپورٹ اور تفتیشی افسر کے مؤقف کی روشنی میں ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کی۔ کارروائی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہی، جس پر تفتیشی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: خوش قسمتی یا معجزہ؟لاہور 3 افراد نہر میں گرنے کے باوجود کیسے محفوظ رہے؟
عدالت نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ریحان طارق کو عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم جاری کر دیا۔ ملزم کو سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ریمارکس دیے کہ "مذہبی علم کے بغیر مذہبی گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔”
یاد رہے کہ ریحان طارق کے خلاف این سی سی آئی اے کی جانب سے توہینِ مذہب سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کی تفتیش جاری ہے۔ عدالت کا حالیہ حکم مقدمے کی میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں بلکہ تفتیش کے دوران تحویل سے متعلق ایک عبوری عدالتی کارروائی ہے۔











