لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی کا قیام پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11-سی کے تحت اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر عمل میں لایا گیا۔
رکن پنجاب اسمبلی سردار محمد اویس دریشک کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سید علی حیدر گیلانی، شوکت راجہ، نورالامین وٹو، چوہدری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی کو کمیٹی کے ارکان نامزد کیا گیا ہے۔ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کی کارروائی میں معاونت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی 76 فیصد نوجوان آبادی مستقبل کے بارے میں پُرامید، یو این ایف پی اے رپورٹ
جوڈیشل کمیٹی اسمبلی کے استحقاق سے متعلق ریفرنسز کی سماعت اور تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی کو شواہد اور دستاویزات طلب کرنے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور متعلقہ افراد کا مؤقف سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔ تحقیقات مکمل ہونے پر کمیٹی اپنی رپورٹ اور سفارشات اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی۔ استحقاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر کمیٹی سزا یا جرمانہ بھی عائد کر سکے گی، تاہم فوجداری اور دیوانی مقدمات اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق ڈی پی او قصور پہلے سرکاری افسر ہوں گے جن کا معاملہ پنجاب اسمبلی کی اس نئی جوڈیشل کمیٹی میں زیرِ سماعت آئے گا۔








