لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور میں غیرقانونی رہائشی سکیموں اور کمرشل سرگرمیوں کے خلاف ایل ڈی اے نے کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔ ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کی ہدایات پر شہر کے مختلف علاقوں میں جاری آپریشن کے دوران غیرقانونی تعمیرات، غیر منظور شدہ سکیموں اور قواعد کے خلاف استعمال ہونے والی املاک کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔
ایل ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف میٹروپولیٹن پلاننگ فور اور ٹاؤن پلاننگ ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے منہالہ روڈ، چھپا ویلیج روڈ اور معراج روڈ پر قائم 14 غیرقانونی رہائشی سکیموں کے خلاف آپریشن کیا۔
کارروائی کے دوران الکبیر گارڈن، عمار ایونیو، کینال ویو فارمز، ایان سٹی فیز ون، ایان سٹی فیز ٹو، علی گارڈن، گرینڈ بازار/کشمیر گارڈن، نیو نتھوکی آبادی، احمد گارڈن، پاک ہومز، مغل ہومز، سلیمان سٹی/ہیون سٹی، الحماد میڈوز، رائل ولاز اور بی ایم اسٹیٹ/محافظ سٹی سمیت مختلف منصوبوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ایل ڈی اے ٹیموں نے غیرقانونی سکیموں میں قائم سڑکیں، باؤنڈری والز، سیوریج سسٹم اور دیگر انفراسٹرکچر مسمار کر دیا، جبکہ متعدد دفاتر کو بھی سیل کر دیا گیا۔
دوسری جانب شہر میں غیرقانونی کمرشل استعمال کے خلاف بھی کارروائی جاری رہی، جس کے دوران مختلف علاقوں میں 73 املاک سربمہر کر دی گئیں۔ ایل ڈی اے کے مطابق گلبرگ، فیصل ٹاؤن، نیو مسلم ٹاؤن، سمن آباد اور علامہ اقبال ٹاؤن میں آپریشن کیا گیا۔
کارروائی کے دوران گلبرگ اور فیصل ٹاؤن میں 29، نیو مسلم ٹاؤن اور سمن آباد میں 29 جبکہ علامہ اقبال ٹاؤن میں 15 املاک سیل کی گئیں۔ سیل کی جانے والی املاک میں نجی سکول، فارمیسی، کلینک، گروسری سٹور، کیفے، ریسٹورنٹس، فوڈ پوائنٹس، آٹو ورکشاپس، دکانیں اور دفاتر شامل ہیں۔
ایل ڈی اے حکام کے مطابق یہ کارروائی چیف میٹروپولیٹن پلاننگ اور چیف ٹاؤن پلانر ون اسد الزمان کی نگرانی میں کی گئی، جبکہ ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کی ہدایات پر شہر بھر میں غیرقانونی رہائشی سکیموں اور غیر منظور شدہ کمرشل سرگرمیوں کے خلاف آپریشن مسلسل جاری رہے گا۔
ایل ڈی اے کی اس کارروائی نے ایک بار پھر سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں اور کاروباری سرگرمیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن سے لاہور میں تعمیراتی قوانین پر عملدرآمد بہتر ہو سکے گا؟











