لاہور(پنجاب پوسٹ ) لاہور ہائیکورٹ میں شیخوپورہ کے ایک کریانہ/پرچون سٹور کو سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ بادی النظر میں اگر کسی کریانہ اسٹور میں ملاوٹ یا غیر معیاری اشیاء بھی موجود ہوں تو بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کو اسٹور سیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، بلکہ وہ قانون کے مطابق دیگر کارروائی کر سکتی ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے عبدالحفیظ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فوڈ اتھارٹی نے قانونی اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے سٹور پر چھاپہ مارا، نوٹس یا شوکاز دیے بغیر دکان سیل کر دی، جو قانون کے منافی ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ اسٹور کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری تنویر اختر نے درخواست کی مخالفت کی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی شیخوپورہ غلام شبیر عدالت میں پیش ہوئے اور تفصیلی رپورٹ جمع کرائی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹور سے غیر معیاری اور زائد المعیاد اشیائے خور و نوش برآمد ہوئیں۔ کوالٹی رپورٹ میں غیر معیاری اشیاء کی تصدیق کے بعد قانونی کارروائی کی گئی۔ پہلے مرحلے میں اسٹور مالک کو نوٹس اور وارننگ جاری کی گئی، تاہم ایک سال بعد دوبارہ معائنہ کیا گیا تو سیمپلز لیے گئے، جن میں ہلدی اور مرچیں غیر معیاری پائی گئیں، جس پر مقدمہ درج کرایا گیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ فوڈ اتھارٹی نے اسٹور کو سیل نہیں کیا بلکہ قانون کے مطابق کارروائی کی گئی، جبکہ درخواست گزار نے ماحولیاتی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں فوڈ اتھارٹی نے اپنے اختیارات کا ناجائز اور غلط استعمال کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ فوڈ اتھارٹی صرف وہی کارروائی کر سکتی ہے جس کی قانون اجازت دیتا ہے، اسٹور سیل کرنا اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں دکھائی دیتا۔
فریقین کے مکمل دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جس کا انتظار نہ صرف درخواست گزار بلکہ پنجاب بھر کے ہزاروں کریانہ اور پرچون اسٹور مالکان بھی کر رہے ہیں، کیونکہ یہ فیصلہ فوڈ اتھارٹی کے اختیارات کے تعین کے حوالے سے اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔










