غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کا کیس، مبینہ "باس "عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جا رہا؟

لاہور( پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ میں دو غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کے مقدمے میں نامزد ملزم وحید طاہر کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عبہر گل نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس سی سے رپورٹ طلب کر لی اور مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل رانا انتظار حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس تین جولائی کو وحید طاہر کو گھر سے لے گئی، تاہم آج تک انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق وحید طاہر اس وقت سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور، ماڈلنگ کا جھانسہ دیکر خاتون بے آبرو، 6 لاکھ روپے بھی لوٹ لئے

اس موقع پر جسٹس عبہر گل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اب درخواست گزار عدالت سے کیا ریلیف چاہتے ہیں، جس پر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوتا ہے، جبکہ اس کیس میں اس قانونی تقاضے پر عمل نہیں کیا گیا۔

درخواست وحید طاہر کی والدہ ممتاز بی بی کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں آئی جی پنجاب، سپرنٹنڈنٹ جیل سمیت دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ دو غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کے مقدمے میں گرفتار کیے گئے وحید طاہر کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وحید طاہر کی مبینہ غیر قانونی حراست ختم کرتے ہوئے انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرنے اور مناسب قانونی ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے