امریکی قونصل خانے کا وفد ای پی اے پہنچ گیا، پنجاب کا ماحولیاتی نظام دنیا کے لئے مثال کیسے بنا؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) امریکی قونصل خانے کے وفد نے لاہور میں ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کا دورہ کیا، جہاں سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزرا بھی موجود تھے۔وفد نے ای پی اے کے جدید کنٹرول روم کا دورہ کیا اور ماحولیاتی مانیٹرنگ، ایئر کوالٹی مینجمنٹ اور آلودگی پر نظر رکھنے کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔

سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے وفد کو پنجاب میں ماحولیات کے تحفظ، سموگ کے خاتمے اور کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔مریم اورنگزیب نے بتایا کہ نومبر 2024 میں لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر تھا، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات اور مؤثر حکمت عملی کے باعث اب صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ای پی اے کو جدید اختیارات، وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کی گئی ہے، جبکہ صنعتی یونٹس کی چوبیس گھنٹے نگرانی، تعمیراتی مقامات پر گرد و غبار کے کنٹرول اور خلاف ورزیوں کی فوری نشاندہی کے لیے جدید نظام فعال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہیٹ ویو: پنجاب بھر میں کیمپس قائم، آپ فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے سپر سیڈر مشینوں کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت کے آغاز پر پنجاب میں صرف 250 سپر سیڈرز موجود تھے، جبکہ اب ان کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگلے سال تک یہ تعداد پندرہ ہزار سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے کسانوں کو مشینوں کی قیمت کا ساٹھ فیصد حصہ حکومت فراہم کر رہی ہے۔

سینئر وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کلائمیٹ چینج، ماحولیات، جنگلات اور وائلڈ لائف کے شعبوں کے لیے تاریخی بجٹ مختص کیا ہے، جبکہ پاکستان اور خطے کی پہلی کلائمیٹ چینج آبزرویٹری بھی قائم کی جا رہی ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں اور ریزیلینٹ پنجاب کے لیے ڈیٹا ہب کا کردار ادا کرے گی۔

بریفنگ کے دوران وفد کو بتایا گیا کہ پنجاب کے تمام بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکے ہیں، لاہور کے موٹرویز، مالز اور ماڈل بازار پلاسٹک فری زونز قرار دیے جا چکے ہیں اور مرحلہ وار پورے پنجاب کے کمرشل بازاروں کو بھی پلاسٹک فری بنایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب اے کیو آئی موبائل ایپ کے ذریعے شہریوں کو فضائی آلودگی سے متعلق لمحہ بہ لمحہ معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ایمیشن ٹیسٹنگ سسٹم، آن لائن لائسنسنگ، باڈی کیمز، لائیو لوکیشن مانیٹرنگ اور پنجاب سیف سٹی کے ذریعے بھی آلودگی پر مؤثر نگرانی جاری ہے۔

امریکی وفد نے دورے کے دوران ایئر کوالٹی مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے لاہور کا لائیو اے کیو آئی بھی چیک کیا اور ای پی اے کے جدید مانیٹرنگ نظام کا جائزہ لیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے