لاہور ہائیکورٹ کا 11 بھٹہ مزدوروں کو جبری مشقت سے آزاد کرانے کا حکم

لاہور(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ نے بھٹہ مزدوروں سے بغیر معاوضہ جبری مشقت لینے کے معاملے پر اہم کارروائی کرتے ہوئے 11 مزدوروں کو بازیاب کرا کے رہا کر دیا۔ کیس کی سماعت جسٹس جواد ظفر نے محمد حسین کی درخواست پر کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایک بھٹہ مالک نے پورے خاندان کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ان سے زبردستی بھٹے پر مزدوری کروائی جا رہی ہے، جبکہ انہیں ان کی محنت کا مناسب معاوضہ بھی نہیں دیا جا رہا۔

درخواست گزار کے مطابق متاثرہ افراد میں 5 کمسن بچے، 2 خواتین اور دیگر افراد شامل ہیں، جنہیں آزادی سے نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی اور انہیں مسلسل جبری مشقت پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ تمام متاثرہ مزدوروں کو فوری طور پر بازیاب کرا کے آزاد کیا جائے اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کا حکم دیا، جس پر 11 مزدوروں کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی آزادی یقینی بنائی۔ یہ فیصلہ جبری مشقت اور مزدوروں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے