اوکاڑہ( پنجاب پوسٹ) اوکاڑہ ضلع کونسل میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کروڑوں روپے کے گھپلوں کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات کے بعد 37 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن پر دو سابق چیف افسران، دیگر افسران اور درجنوں ٹھیکیداروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ضلع کونسل اوکاڑہ میں مبینہ طور پر بوگس بلوں کے ذریعے 37 کروڑ روپے سے زائد کی رقم سرکاری خزانے سے نکلوائی گئی، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ تحقیقات میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آنے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
محکمہ اینٹی کرپشن نے دو سابق چیف افسران سمیت 12 افسران اور 50 ٹھیکیداروں کے خلاف مختلف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں سابق چیف افسر شہزاد اقبال قریشی اور چیف افسر رانا نوید اختر کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جبکہ دیگر نامزد افسران میں مشتاق احمد، محمد اسلم، مرزا امین، امجد سجاد اور دیگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 50 ٹھیکیدار بھی مقدمے کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں بجلی چوروں کے گرد گھیرا تنگ، کتنے ہزار گرفتاریاں ہوئی ؟
حکام کے مطابق یہ کارروائی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ساہیوال کی ہدایات اور تحقیقات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی، جن کے مطابق ضلع کونسل میں 37 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن ثابت ہونے پر مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
اینٹی کرپشن نے مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات، جن میں دفعہ 409، دفعہ 166، پریونشن آف کرپشن ایکٹ کی متعلقہ دفعات اور دیگر قانونی شقیں شامل ہیں، کے تحت درج کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اندراج کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس مبینہ کرپشن میں مزید افراد یا ادارے بھی ملوث تھے۔
ذرائع کے مطابق ضلع کونسل اوکاڑہ میں اب بھی کروڑوں روپے کے کوٹیشن ورک سے متعلق معاملات زیرِ غور ہیں، جن کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔ اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میرٹ اور قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائیں گی، جبکہ مبینہ طور پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے تمام ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













