لاہور( پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم آئینی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نان نفقہ کے مقدمات میں شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شناختی کارڈ ہر شہری کی قانونی شناخت اور بنیادی حق ہے۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے درخواست گزار ناصر علی رانجھا کی درخواست منظور کرتے ہوئے 2017 سے بلاک شناختی کارڈ فوری بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نادرا قوانین میں نان نفقہ کی بنیاد پر شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس لیے ماتحت عدالت کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شناختی کارڈ ہر شہری کی بنیادی قانونی شناخت ہے، جس کے بغیر تعلیم، ملازمت، بینکاری، سفری دستاویزات اور دیگر بنیادی شہری سہولیات تک رسائی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے اس بنیادی حق کو صرف اسی صورت محدود کیا جا سکتا ہے جب قانون اس کی واضح اجازت دیتا ہو۔
مزید پڑھیں؛نو مئی مقدمات: فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی عبوری ضمانتوں میں 5 ستمبر تک توسیع
لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگرچہ ضابطۂ دیوانی اور فیملی قوانین عدالتوں کو اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے لچک فراہم کرتے ہیں، تاہم یہ لچک انہیں ایسا اختیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی جو قانون میں موجود ہی نہ ہو۔
عدالت نے واضح کیا کہ نان نفقہ کی ڈگری اپنی جگہ برقرار رہے گی اور اس پر عمل درآمد قانون کے مطابق جاری رکھا جائے گا، تاہم شناختی کارڈ بلاک کرنا قانونی طور پر درست اقدام نہیں۔
فیصلے میں درخواست گزار کا شناختی کارڈ فوری بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ بنیادی حقوق کو صرف قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔











