لاہور (پنجاب پوسٹ) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سیاسی تقسیم قومی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ معصوم جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین سے چار برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تین ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، جو تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم اندرونی سیاسی اختلافات اور تقسیم کا فائدہ علیحدگی پسند عناصر اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں قومی یکجہتی اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے۔
فواد چوہدری نے الزام عائد کیا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے اور بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی کا مطالبہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل پی ٹی آئی کی قیادت اس وقت جیلوں میں موجود ہے، لہٰذا اگر مذاکرات کا آغاز کرنا ہے تو پہلے کوٹ لکھپت جیل اور پھر اڈیالہ جیل میں موجود قیادت سے بات کی جائے۔
انہوں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو آگے لانے کے بجائے ایسی قیادت سامنے آنی چاہیے جو سیاسی معاملات کو سلجھانے اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
سابق وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہوگا۔













