لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ میں والڈ سٹی کے تاریخی ورثے کی حامل عمارتوں کے کمرشل استعمال اور غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس ملک اویس خالد نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ اور پلان طلب کر لیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ والڈ سٹی میں غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جائے، جبکہ کمرشل اور رہائشی عمارتوں کی تفصیلات بھی عدالت کے روبرو لائی جائیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ماسٹر پلان سے قبل کتنی عمارتوں کو کمرشل استعمال کی اجازت دی گئی، اس کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں؛پنجاب کا منفرد گاؤں، عالمی میڈیا کی کوریج، اس گاؤں میں مفت پلاٹ کیسے حاصل کریں؟
سماعت کے دوران عدالتی حکم پر ڈپٹی کمشنر لاہور، ایس ایس پی اور ڈائریکٹر آپریشن والڈ سٹی اتھارٹی عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل خالد جمیل ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ والڈ سٹی اتھارٹی کی حدود میں غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں اور خود اتھارٹی کے حکام اپنے قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ آٹھ منزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ نہیں رکا۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ والڈ سٹی اتھارٹی کی حدود میں جاری غیر قانونی تعمیرات فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو کمرشل اور رہائشی سرگرمیوں سے متعلق جامع رپورٹ اور آئندہ کا لائحہ عمل 14 ستمبر کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔












