اینکر ریحان طارق کیس، ضرورت محسوس ہو تو معروف عالم دین سے رہنمائی حاصل کی جائے، تفصیلی فیصلہ

لاہور( پنجاب پوسٹ )متنازع مواد کیس میں اینکرپرسن ریحان طارق کے جسمانی ریمانڈ کا تحریری حکم جاری کردیا ہے ، عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر تفتیشی آفیسر چاہے تو معاملے پر معروف عالم دین سے رہنمائی حاصل کی جائے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے اینکرپرسن ریحان طارق کے جسمانی ریمانڈ پر تحریری حکم جاری کردیا۔ اینکر پرسن ریحان طارق کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ میاں داؤد کے مطابق قانونی طور پر ایف آئی آر کے متن سے کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا، پھر بھی جسمانی ریمانڈ کی حمایت کرتے ہیں،

استدعا کی کہ ہم سائبر کرائم ایجنسی کی جسمانی ریمانڈ کی خود حمایت کرتے ہیں،ہم رضا کارانہ طور پر سائبر کرائم ایجنسی کو تفتیش کرنے دینا چاہتے ہیں،ہماری بس اتنی استدعا ہے کہ تفتیشی افسر ملزم کا پہلا بیان نیک نیتی سے ہو بہو درج کرے، وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ سائبر کرائم ایجنسی کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ سوال پوچھنا تحقیر کے ذمرے میں آتا ہے،

اینکر کے وکیل نے استدعا کی کہ تفتیش افسر کو حکم دیا جائے کہ اگر مناسب سمجھے توکسی معروف عالم سے بھی رہنمائی لے ۔ انہوں نے مئوقف اپنایا کہ مقدمے کا اندراج ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196کے تحت وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ایسے جرائم کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے، ایک معلم سے پوچھا گیا جو سوال ملزم سے منسوب کیا جا رہا ہے، وہ قانون کی کسی تعریف کے تحت جرم نہیں ہے۔

وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائبر کرائم ایجنسی سے دبائو کے تحت پوڈ کاسٹ کی گفتگو کا پس منظر حذف کر کے 10سکینڈ کے کلپ کر مقدمہ درج کر دیا۔ ملزم کیخلاف چار دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ جرم ایک دفعہ کا بھی نہیں بنتا۔ جو سوال اینکر پرسن سے منسوب کیا گیا ہے، وہ سوال ایف آئی آر کا حصہ بھی نہیں ہے، اینکر پرسن ریحان طارق سے جو سوشل میڈیا اکائونٹس منسوب کئے جا رہے ہیں، وہ ملزم کے ہیں ہی نہیں۔

تحریری فیصلے میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے لکھا کہ ملزم کے وکیل نے رضاکارانہ پہلا جسمانی ریمانڈ دینے کی حمایت کی ہے۔تفتیشی افسر ملزم ریحان طارق کا پہلا بیان قانون کے مطابق ہو بہو درج کرے۔ اگر تفتیشی افسر مناسب سمجھے تو قانون کے مطابق کسی معروف عالم دین سے بھی رہنمائی ہے۔ ملزم کو اس کے اہل خانہ کے ساتھ قانون کے مطابق ملاقات کی بھی اجازت ہوگی۔ملزم کو دوبارہ 14جولائی کو دوبارہ عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے