لاہور ( پنجاب پوسٹ) پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو گزشتہ شب بیرون ملک سے واپسی پر ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔
ریحان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی 2025) کی دفعہ 11 کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی فرقہ وارانہ کشیدگی کی دفعات 153-A، 295-A اور 298 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریحان طارق کے فیس بک پلیٹ فارم پر نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں مذہبی اور فرقہ وارانہ حساس معاملات پر ایسی گفتگو کی گئی جس سے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان نفرت، اشتعال اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ ملنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ مزید الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ مواد سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر نشر کیا گیا، جس سے عوامی امن اور مذہبی ہم آہنگی متاثر ہونے کا امکان تھا۔
مزید پڑھیں: پوڈکاساٹر ریحان طارق کو اچانک ائیرپورٹ سے حراست میں کیوں لیا گیا؟
مقدمے میں درج دفعات اور ان کا مطلب:
دفعہ 153-A (پاکستان پینل کوڈ): مختلف مذہبی، نسلی یا لسانی گروہوں کے درمیان دشمنی، نفرت یا فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔ اس جرم کی سزا پانچ سال تک قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔
دفعہ 295-A (پاکستان پینل کوڈ): کسی مذہب یا مذہبی طبقے کے مذہبی جذبات کو جان بوجھ کر اور بدنیتی سے مجروح کرنے یا توہین آمیز طرزِ عمل اختیار کرنے سے متعلق ہے۔ اس کی سزا دس سال تک قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔
دفعہ 298 (پاکستان پینل کوڈ): کسی شخص کے مذہبی جذبات کو دانستہ مجروح کرنے یا مذہبی حوالے سے توہین آمیز الفاظ یا حرکات سے متعلق ہے۔ اس کی سزا ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔
پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی 2025) کی دفعہ 11: الیکٹرانک ذرائع یا سوشل میڈیا کے ذریعے ایسا مواد پھیلانے سے متعلق ہے جو قانون کے تحت قابلِ تعزیر جرم کے زمرے میں آتا ہو۔ اس دفعہ کے تحت بھی قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر ہیں، جن کا انحصار جرم کی نوعیت اور عدالت کے فیصلے پر ہوتا ہے.
ایف آئی آر کے مطابق ابتدائی انکوائری کے بعد متعدد فیس بک لنکس کو شواہد کے طور پر شامل کیا گیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ آج ضلع کچہری میں پیشی کے بعد پوڈ کاسٹر کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔









