لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور چمبر آف کامرس کی ممبر فریحہ یونس نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک نجی محفل میں دو خواتین نے ان پر تشدد کیا ہے جبکہ پولیس ایف آئی آر کا اندراج نہیں کر رہی۔
تفصیلات کے مطابق ڈیفنس کے علاقے میں ایک نجی تقریب کے دوران معمولی تلخ کلامی پر تین خواتین نے ایک خاتون کو اس کے بچوں کی موجودگی میں بری طرح تشدد کا نشانہ بنا دیا۔ متاثرہ خاتون فریحہ یونس نے اندراج مقدمہ کیلئے تھانہ ڈیفنس بی میں درخواست جمع کروادی۔
لاہور چیمبر و کامرس کی ممبر فریحہ یونس نے پولیس کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ان پر صدف شان گل،نازش فرید اور شاہ تاج گل نے تشدد کیا اور گالیاں دیں۔ ایم ایل سی رپورٹ ہونے کے باوجود ڈیفنس بی پولیس مقدمہ درج نہ کرسکی۔
یہ بھی پڑھیں :غیر ملکی خواتین کیس: کیا خواتین کیساتھ زیادتی ہوئی؟ میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی
فریحہ یونس نے وزیراعلی پنجاب،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور آئی جی پنجاب سے بااثر ملزمان کیخلاف اندراج مقدمہ اور انصاف کی اپیل کردی۔
درخواست کے مطابق پارٹی سے جب زیادہ مہمان چلے گئے تو صدف شان گل،نازش فرید اور شاہ تاج نے خاتون کیساتھ بدتمیزی شروع کردی، فریحہ یونس کے مطابق جب وہ بدتمیزی پر جانے لگی تو تینوں خواتین نے اس پر حملہ کردیا ،انہیں صوفے پر پٹخ کر مکے اور لاتیں مارنے شروع کردی اور بال کھینچنے لگی
مزید پڑھیں: لاہور چمبر آف کامرس کی ممبر پر خواتین کا تشدد، وزیر اعلیٰ پنجاب مجھے انصاف دیں، فریحہ یونسدرخواست کے متن کے مطابق تینوں خواتین نے فریحہ یونس کو تشدد کرکے تیز دھار آلے سے وار کرکے ہاتھ زخمی کردیا۔ خواتین تشدد کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاتون کو گالیاں بھی دیتی رہی۔








