مریم نواز کا ڈیجیٹل پنجاب، نشتر ہسپتال ملتان میں اہم ڈاکومنٹس ہاتھ سے تیار کئے جانے لگے

لاہور ( پنجاب پوسٹ) وزیراعلی پنجاب نے تمام سرکاری محکموں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے جبکہ نشتر ہسپتال ملتان میں میڈیکل لیگل سرٹیفکیٹ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہاتھ سے تیار کئے جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملتان کے نشتر ہسپتال میں 6 ماہ کے دوران 816 ہاتھ سے لکھے گئے میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسی عرصے میں 182 ہاتھ سے تحریر کیے گئے اور پوسٹ مارٹم رپورٹس بھی جاری کی گئیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے نوٹس کے بعد محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے ایکشن لے لیا۔سابق ایم ایس نشتر ہسپتال ملتان ڈاکٹر راؤ امجد علی خان سے وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔پنجاب میں 9 ادویات کے بیچز غیر معیاری قرار، محکمہ صحت کا فوری الرٹ

محکمہ صحت کے مطابق کمپیوٹرائزڈ MLCs اور PMRs جاری کرنے کی ہدایات پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا گیا۔نوٹس کے مطابق محکمانہ ہدایات، عدالتی احکامات اور SOPs کی خلاف ورزی کی گئی۔ اسی حوالے سے ڈاکٹر راؤ امجد علی خان کو 7 روز میں تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت مزید کارروائی کی جائے گی

یہ بھی پڑھیں۔ٹیکس نظام مکمل ڈیجٹیلائز،پنجاب حکومت نے 97ارب اضافی ٹیکس وصول کیا،مجتبیٰ شجاع الرحمان

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کردیا

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے