لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ بار کے کراچی شہداء ہال میں پیپلز لائرز فورم کے زیرِ اہتمام عادی مجرمان سے متعلق مجوزہ نئے قانون کے مختلف آئینی، قانونی اور سماجی پہلوؤں پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں وکلاء، ماہرین قانون، صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سیمینار میں سابق صوبائی وزیر حسن مرتضیٰ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی، سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ، راحیل کامران چیمہ ایڈووکیٹ، صحافی مہمل سرفراز، ڈاکٹر سید عظیم اور تجزیہ کار محمد تحسین نے خطاب کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ریاست کو عوام کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے، تاہم ایسی قانون سازی جو آئین سے متصادم یا آمرانہ نوعیت کی ہو، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں برطانوی دور کے بعض قوانین آج بھی نافذ ہیں، جنہیں نوآبادیاتی مقاصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں؛لاہور میں 6 ماہ میں 43 ہزار سے زائد جرائم، شہری غیر محفوظ
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عادی مجرمان سے متعلق مجوزہ قانون کو سیاسی یا دیگر مخالفین کے خلاف استعمال کیے جانے کا امکان موجود ہے، اس لیے قانون سازی آئین پاکستان، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
سیمینار کے اختتام پر شرکاء اور معزز مہمانوں میں مجوزہ ایکٹ کی کاپیاں تقسیم کی گئیں۔











