لاہور میں 6 ماہ میں 43 ہزار سے زائد جرائم، شہری غیر محفوظ


لاہور (پنجاب پوسٹ) رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران جرائم کی مجموعی طور پر 43 ہزار 374 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں ڈکیتی، چوری، قتل، اقدامِ قتل، جیب تراشی، راہزنی اور ڈکیتی مزاحمت جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق اس عرصے میں قتل کی 141 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ صدر ڈویژن میں 34 جبکہ کینٹ ڈویژن میں 33 قتل کے واقعات پیش آئے۔ اسی دوران اقدامِ قتل کے 249 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کینٹ ڈویژن 65، ماڈل ٹاؤن 56، صدر 44 اور سٹی ڈویژن 42 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی مزاحمت کے دوران 4 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ڈکیتی کی 11 وارداتیں رپورٹ کی گئیں۔ راہزنی کے 732 واقعات میں کینٹ ڈویژن 192، صدر 187 اور ماڈل ٹاؤن 128 وارداتوں کے ساتھ نمایاں رہے۔


رپورٹ کے مطابق نقب زنی کی 1,143، مویشی چوری کی 508 اور سرقہ عام (چوری) کی 28 ہزار 70 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ سرقہ عام کے سب سے زیادہ واقعات کینٹ ڈویژن میں 6,548، ماڈل ٹاؤن میں 6,039 اور صدر ڈویژن میں 5,942 ریکارڈ کیے گئے۔
اسی عرصے میں سائیکل چوری کے 156، جیب تراشی کے 12 ہزار 202 اور موبائل فون چھیننے کے 162 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
ذرائع کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ جرائم کی وارداتوں میں ان کی عمر بھر کی جمع پونجی لٹ گئی، جبکہ پولیس کی جانب سے ریکوری کی شرح انتہائی کم رہی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم پر مؤثر قابو پانے اور لوٹی گئی املاک کی برآمدگی کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے