سی پیک 2: سعودی عرب، پاکستان میں کن شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے ایف پی سی سی آئی میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سعودی سرمایہ کاروں کے وفد اور پاکستانی کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین ذکی اعجاز نے سعودی وفد کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی، زراعت، توانائی، پٹرولیم مصنوعات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ذکی اعجاز کا کہنا تھا کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعدد مراعات فراہم کر رہا ہے۔ کاروباری مقاصد کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری پر ٹیکس میں چھوٹ دی جا رہی ہے جبکہ صنعتی زونز میں سرمایہ کاروں کو دس سال تک مختلف مراعات حاصل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے نئے شہر نیوم سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں پاکستانی نوجوانوں اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے لیے روزگار کے بہترین مواقع موجود ہیں۔

اس موقع پر سعودی سرمایہ کار وفد کے سربراہ بلال زبیر نے کہا کہ ان کا گروپ تعمیرات سمیت متعدد شعبوں میں کام کر رہا ہے اور سعودی عرب سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ کاروباری ماحول فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار سعودی عرب میں آزادانہ طور پر اپنی کمپنیاں قائم کر کے کاروبار کر سکتے ہیں اور ٹرانسپورٹ، تعمیرات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

بلال زبیر نے پاکستانی کاروباری اداروں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے خوش آمدید کہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں برادر ممالک باہمی تعاون کے ذریعے اقتصادی ترقی کی نئی راہیں ہموار کریں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے