لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کے نام پر سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کے قیام کے خلاف درخواست کے دوران ڈی جی پی آر کی بڑی غلطی سامنے آ گئی۔ محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے حکومت پنجاب کا جواب چیف سیکرٹری کے دستخط کے بغیر جمع کروا دیا جس پر عدالت نے ڈی جی پی آر حکام کی سرزنش کی۔
تفصیلات کے مطابق شہری اشبا کامران نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست جمع کروائی ۔ درخواست گزار کے مطابق یپنجاب میں نواز شریف کے نام پر سرکاری ہسپتال اور سکول بنائے جا رہے ہیں ۔عوامی ٹیکس سے بننے والی سرکاری عمارتوں کے نام سیاسی تشہیر کے لیے نہیں رکھے جاسکتے ۔درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ عدالت نواز شریف کے نام پر سرکاری سکول اور ہسپتال رکھنے کا اقدام کالعدم قرار دے
مزید پڑھیں:پنجاب میں 9 ادویات کے بیچز غیر معیاری قرار، محکمہ صحت کا فوری الرٹ
آج جسٹس فاروق حیدر نے درخواست پر سماعت کی۔لیکن حیران کن طور پر پنجاب حکومت نے چیف سیکرٹری کے دستخط کے بغیر عدالت میں جواب جمع کروایا ۔عدالت نے درست انداز میں جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ چیف سیکرٹری کے دستخط کے بغیر کیسے جواب جمع کرایا گیا ؟ڈی جی پی آر نے بغیر دستخط جواب کیسے جمع کرایا ؟
عدالت نے آئندہ سماعت پر چیف سیکرٹری کا دستخط شدہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی 9 جولائی تک ملتوی کردی۔















