میانوالی (پنجاب پوسٹ) شادی سے انکار پر اپنے ہی محکمہ کی لیڈی کانسٹیبل کو مبینہ طور پر اسلحہ کے زور پر ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں پولیس کانسٹیبل رحمت اللہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق لیڈی کانسٹیبل شہناز گل ٹی ایچ کیو ہسپتال پپلاں کے خدمت مرکز میں ڈیوٹی پر موجود تھیں کہ اسی دوران تھانہ پپلاں میں تعینات پولیس کانسٹیبل رحمت اللہ مبینہ طور پر پستول لے کر کاؤنٹر پر پہنچ گیا۔ الزام ہے کہ اس نے لیڈی کانسٹیبل کی کنپٹی پر پستول رکھ کر شادی کے لیے دباؤ ڈالا اور انکار کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد پولیس کے 4 ایس ایچ اوز کے لیے بڑا اعزاز، قائداعظم ایوارڈ کے لیے نامزد
اطلاعات کے مطابق لیڈی کانسٹیبل کی مزاحمت کے دوران پستول زمین پر گر گیا۔ شور سن کر ان کے والد اور بھائی بھی موقع پر پہنچ گئے، تاہم ملزم مبینہ طور پر انہیں بھی دھمکیاں دیتا ہوا اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہو گیا، جس سے ٹی ایچ کیو ہسپتال پپلاں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے بعد متاثرہ لیڈی کانسٹیبل کی مدعیت میں پولیس کانسٹیبل رحمت اللہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں.













