لاہور:(پنجاب پوسٹ) میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی پالیسی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا بنیادی مقصد ملک کی ریفائنریز کو جدید بنانا اور ان میں بہتری لانا تھا، مگر حکومت نے لیوی کی مد میں اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود اس مقصد پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت غریب، متوسط طبقہ، مزدور، طلبہ اور موٹرسائیکل استعمال کرنے والے شہری اس لیوی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مڈل کلاس کی بڑی تعداد 800 اور 1000 سی سی گاڑیاں استعمال کرتی ہے، لیکن انہیں بھی اضافی ٹیکسوں کے ذریعے مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ جن طبقات پر حقیقی معنوں میں ٹیکس نافذ ہونا چاہیے، ان سے مؤثر انداز میں وصولی نہیں کی جا رہی، جبکہ عام شہریوں سے مختلف مدات میں ٹیکس اور لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے جاگیردار اور بااثر طبقات ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جبکہ عام عوام کو مسلسل مالی بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔انہوں نے پٹرولیم لیوی کو "بھتہ خوری” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس لیوی کو ختم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل اور مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے گی اور عوام کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائے گی۔














