لاہور ( پنجاب پوسٹ ) مون سون کے دوران تعمیراتی سرگرمیوں سے شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے محفوظ اور منظم تعمیرات کے وژن کے تحت لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے مون سون سیزن کے دوران تعمیراتی سائٹس کے لیے نئے حفاظتی ضوابط جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت 15 اگست تک کھدائی کے تمام کاموں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی ہدایت پر تمام زیرِ تعمیر منصوبوں، خصوصاً تہہ خانوں کی تعمیر والی سائٹس پر شورنگ، ریٹیننگ والز اور سٹرکچرل استحکام کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ بارشوں کے دوران کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ورلڈ رورل ڈیویلپمنٹ ڈے: پنجاب حکومت کی اولین ترجیح، فیصل ایوب کھوکھر
حکام نے تمام آرکیٹیکٹس، سٹرکچر انجینئرز اور ریذیڈنٹ انجینئرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین روز کے اندر اپنی متعلقہ تعمیراتی سائٹس کے سیفٹی سرٹیفکیٹس ایل ڈی اے میں جمع کرائیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ اگر حفاظتی انتظامات میں غفلت کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری مالک، بلڈر اور متعلقہ انجینئر پر عائد ہوگی۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ ہمسایہ عمارتوں، عوامی انفراسٹرکچر اور شہریوں کی جانوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج، پراپرٹی سیل کرنے، بلڈنگ پلان منسوخ کرنے اور بھاری جرمانوں سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مون سون کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور تمام متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بروقت بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔








