کیا چینی کی قلت کا خطرہ ٹل گیا؟ حکومت کے پاس کتنے لاکھ ٹن ذخائر موجود ہیں؟

لایور ( پنجاب پوسٹ ) ملک میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں سے متعلق جاری خدشات کے درمیان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو شوگر اسٹاک کی تازہ رپورٹ پیش کر دی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں نہ صرف آئندہ کرشنگ سیزن تک ضرورت پوری کرنے کے لیے وافر مقدار میں چینی موجود ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی لاکھوں ٹن اضافی ذخیرہ دستیاب ہے۔

رپورٹ کے مطابق 3 جولائی تک شوگر انڈسٹری کے پاس تقریباً 28 لاکھ میٹرک ٹن چینی موجود ہے، جس کی مالیت 298 ارب روپے بنتی ہے۔ مجموعی طور پر ملک بھر میں چینی کا ذخیرہ 36 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 25 نومبر 2026 سے شروع ہونے والے نئے کرشنگ سیزن تک ملکی ضرورت تقریباً 28 لاکھ میٹرک ٹن رہنے کا تخمینہ ہے۔ اس طرح ملک میں تقریباً 8 لاکھ میٹرک ٹن چینی اضافی موجود ہے، جو طلب پوری کرنے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب نے رواں سیزن کے دوران 51 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا کی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 695 ارب روپے ہے۔ حکام کے مطابق موجودہ ذخائر کی بدولت نئے کرشنگ سیزن تک چینی کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی کا خدشہ نہیں، جبکہ مارکیٹ میں سپلائی کو بھی مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ شوگر اسٹاک کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت جیسے خدشات پر قابو رکھا جا سکے اور صارفین کو مناسب قیمت پر چینی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کے پاس آئندہ کرشنگ سیزن تک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے