لاہور(پنجاب پوسٹ) محکمہ داخلہ پنجاب میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کی۔
اجلاس کے دوران سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے صوبہ بھر میں امن و امان کی تازہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اسے تسلی بخش قرار دیا۔
کابینہ کمیٹی نے محرم الحرام کے دوران بہترین سکیورٹی انتظامات اور فرائض کی ادائیگی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ اجلاس میں سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا حکم بھی دیا گیا۔
اس موقع پر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ عشرہ محرم الحرام کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پوری کابینہ فیلڈ میں متحرک رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ڈیجیٹل اسپیس میں قیام امن کے لیے سائبر پٹرولنگ کو مؤثر بنا رہی ہے اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں؛ ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس سی کو معطل کیوں کیا گیا؟ اب تک کی بڑی خبر سامنے آگئی
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مذاکرات میں عزت و تکریم حاصل ہوئی ہے اور ملک میں امن کے قیام کے لیے پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔
سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ صوبہ بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر شرانگیزی کرنے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
اجلاس میں سپیشل سیکرٹری داخلہ فیصل فرید، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، چیف کوآرڈینیٹر پفٹیک، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔












