لاہور میں ہالینڈ سے آنے والی غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، جنسی استحصال اور تاوان کے ہائی پروفائل کیس میں تحقیقات نے نئے اور حیران کن رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم رضا ڈار کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان سے بھی تفتیش جاری ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرہ غیر ملکی خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری اور شراکت داری موجود تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے خواتین کو مزید منافع بخش سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا۔ دونوں خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں اور ان کی 5 جولائی کو واپسی طے تھی، تاہم واپسی سے قبل مرکزی ملزم رضا ڈار انہیں ڈیفنس کے ایک گھر لے گیا، جہاں پہلے سے موجود اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر خواتین کو یرغمال بنا کر جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پرھیں : ہالینڈ سے 15 پر کال ، پنجاب پولیس نے 2 گھنٹوں میں غیر ملکی خواتین کو کیسے تلاش کیا ؟
پولیس کے مطابق ملزمان نے کرپٹو کرنسی میں مبینہ منافع کے نام پر ڈیڑھ ملین ڈالر کا مطالبہ کیا، جو بعد ازاں تاوان کی صورت اختیار کر گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی لاہور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صرف دو گھنٹوں کے اندر دونوں خواتین کو بازیاب کرا لیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق متاثرہ خواتین کا طبی معائنہ مکمل کیا جا رہا ہے اور فرانزک شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل میرٹ اور شفاف انداز میں کی جائے گی۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کے تفصیلی بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں اور انہیں کینٹ کچہری میں مجسٹریٹ کے روبرو پیش کر کے مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں اور ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی بنیاد پر مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔










