لاہور ( پنجاب پوسٹ ) جنرل ہسپتال میں زیرِ علاج 30 سالہ خاتون ٹیچر انیلا ریحان کے کیس کو مزید مؤثر انداز میں مانیٹر کرنے کے لیے اسپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چار سینئر پروفیسرز پر مشتمل یہ بورڈ مریضہ کے علاج کا روزانہ جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر خرم سلیم کو بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر تین ماہر ڈاکٹرز بطور ممبر شامل ہیں۔ مراسلے کے مطابق بورڈ ہر روز صبح 10 بجے مریضہ کے میڈیکل ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ کرے گا اور علاج سے متعلق ماہرانہ سفارشات مرتب کرے گا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق مریضہ کو سرجیکل یونٹ ون کے ایمرجنسی وارڈ میں تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی حالت مجموعی طور پر تسلی بخش ہے۔
یہ بھی پڑھیں ؛ کاہنہ سانحہ: غفلت کی قیمت 14 معصوم جانیں، مقدمہ درج، 5 افراد زیرحراست
ادھر کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھجوا دی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چھت پر اضافی ملبہ ڈالنے اور تعمیراتی ڈھانچے کی کمزوری کے باعث حادثہ پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹی آر گارڈر پر مٹی ڈالنا اور غیر محتاط تعمیراتی عمل واقعے کی بڑی وجہ بنا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حادثے کے وقت 34 بچوں کی کلاس میں سے 20 بچے اور ٹیچر موجود تھے، جبکہ چھت گرنے سے 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور 6 زخمی ہوئے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے کے باعث ہوئیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تاحال کسی سرکاری اہلکار کی غفلت سامنے نہیں آئی، تاہم مزید پہلوؤں پر غور جاری ہے۔
پولیس نے واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے عمارت کے مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ وزیراعلیٰ کو بھجوائی گئی رپورٹ پر مزید باریک بینی سے غور شروع کر دیا گیا ہے جبکہ متاثرہ ٹیچر انیلا لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ٹیچر کی حالت خطرے سے باہر ہے، تمام ضروری ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے ہیں اور ڈاکٹرز کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ آرتھوپیڈک اور نیورو سرجری کے ماہرین نے بھی معائنہ کیا ہے، جبکہ آج ڈسچارج سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔











