لاہور:(پنجاب پوسٹ) کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے ٹیوشن سینٹر سانحے نے شہر کو سوگوار کر دیا۔ معصوم بچوں سے بھرا کلاس روم چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا، جہاں 14 بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ خاتون ٹیچر سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں:سانحہ کاہنہ، 14 بچے شہید، 20 بحفاظت نکال لئے گئے، مریم نواز نے اجلاس طلب کرلیا
واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ ایف آئی آر کے مطابق حادثہ غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ تھا۔ کمزور چھت کے نیچے ٹیوشن سینٹر قائم کیا گیا جبکہ اسی چھت پر مرمت کا کام بھی جاری تھا، جس سے زیادہ وزن پڑا اور چھت اچانک نیچے آگری۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دب کر 14 معصوم بچے زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ کئی زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔سانحے کے بعد پولیس نے مکان مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق تفتیش جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔








