آزاد کشمیر انتخابات : "وننگ ہارس ” کی عدم دستیابی تحریک انصاف کا الیکشن بائیکاٹ کا امکان

راولپنڈی ( پنجاب پوسٹ) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے اندر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ پارٹی میں انتخابات کے بائیکاٹ کی تجویز پر سنجیدہ غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی اور آزاد کشمیر پارلیمانی اپیلیٹ ریویو بورڈ کے بیشتر اراکین نے موجودہ سیاسی صورتحال اور امیدواروں کے انتخاب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بائیکاٹ کی تجویز دی ہے۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امیدواروں کی نامزدگی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد کئی سینئر رہنماؤں نے قیادت کے سامنے اپنے خدشات رکھے ہیں۔ ایک سینئر رہنما کے مطابق متعدد حلقوں میں ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیے گئے ہیں جو انتخابی لحاظ سے زیادہ مضبوط یا معروف نہیں، جبکہ کامیابی کے امکانات رکھنے والے امیدواروں، جنہیں سیاسی اصطلاح میں "وننگ ہارس” کہا جاتا ہے، کو نظر انداز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مہاجرین کی نشستوں پر ٹکٹوں کی تقسیم بھی پارٹی کے اندر اختلافات کا باعث بنی ہے۔ بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مرکزی قیادت نے ٹکٹوں کی تقسیم میں اپنے قریبی افراد کو ترجیح دی، جس سے نہ صرف کارکنوں میں بے چینی پیدا ہوئی بلکہ انتخابی کامیابی کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب پارٹی کے اندر ایک رائے یہ بھی موجود ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے انتخابی میدان خالی چھوڑنے کے بجائے بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق اسی وجہ سے پارٹی کے مختلف حلقوں میں مشاورت جاری ہے اور بائیکاٹ یا انتخابی عمل میں شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلہ آج یا کل متوقع ہے۔

اگر پارٹی بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے تو یہ آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جائے گی، جبکہ انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں امیدواروں اور انتخابی حکمت عملی پر بھی نظرِ ثانی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے