بہاولنگر (پنجاب پوسٹ) چشتیاں نواحی گاؤں 28 گنجانی اضافی بستی میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں بکری کو بچانے کی کوشش کے دوران تین نوجوان زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث جاں بحق ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق آبادی سے باہر واقع ایک مکان کے قریب تقریباً 30 فٹ گہرا اور 3 فٹ چوڑا کنواں موجود تھا، جسے اہلِ خانہ گندے پانی کے ذخیرے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ شام کے وقت قریبی گھر کی ایک بکری بھٹکتے ہوئے کنویں میں گر گئی۔ اہلِ خانہ جب بکری کی تلاش کرتے ہوئے کنویں کے قریب پہنچے تو انہیں اندر سے بکری کی آوازیں سنائی دیں۔
بکری کو نکالنے کی غرض سے 22 سالہ زین علی نے تقریباً 25 فٹ لمبی سیڑھی کے ذریعے کنویں میں اترنے کی کوشش کی، تاہم اندر موجود زہریلی گیس کے باعث وہ چند ہی لمحوں میں بے ہوش ہوگیا۔
تقریباً چار سے پانچ منٹ بعد 18 سالہ محمد اکبر اپنے ساتھی کو بچانے کے لیے کنویں میں اترا، لیکن وہ بھی زہریلی گیس کی لپیٹ میں آ کر بے ہوش ہوگیا۔ اس کے بعد 30 سالہ محمد علی دونوں نوجوانوں کو بچانے کی نیت سے کنویں میں اترے، مگر وہ بھی زہریلی گیس کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔
واقعے کے دوران موجود افراد نے صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے مزید لوگوں کو کنویں میں اترنے سے روک دیا اور فوری طور پر ریسکیو ایمرجنسی سروس کو اطلاع دی۔
ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا اور تینوں نوجوانوں کو ایک ایک کرکے کنویں سے باہر نکالا، تاہم کنویں میں موجود زہریلی گیس کے شدید اثرات کے باعث تینوں افراد جاں بحق ہو چکے تھے۔
واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی جبکہ اہلِ علاقہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایسے کنوؤں، سیوریج ٹینکوں یا بند جگہوں میں حفاظتی اقدامات اور متعلقہ اداروں کی مدد کے بغیر ہرگز داخل نہ ہوں، کیونکہ زہریلی گیس چند لمحوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔














