پنجاب حکومت کے پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئیل آفینڈر بل 2026 میں ایسا کیا ہے کہ مریم نواز کو مداخلت کرنا پڑی؟بل کے مندرجات سامنے آگئے

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب حکومت متنازعہ پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئیل آفینڈر بل 2026 کے معاملے پر فی الحال پسپائی اختیار کرچکی ہے ۔ معاملہ ایک بار پھر کمیٹی کے پاس پہنچ گیا ہے ۔ بل کے مطابق اگر کسی شخص کے خلاف پولسیس انٹیلیجنس اداروں یا کسی شہری کی شکایت کی بنا د پر غیر سماجی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ڈسٹرکٹ انٹیلجنس کمیٹی انکوائری کے بعد کارروائی کر سکے گی۔ متعلقہ شخص کو پہلے نوٹس جاری کا جائے گا اور اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔


حکومت کے مجوزہ بل کے مطابق ہر ڈویژن میں ایک ڈویژنل انٹیلیجنس کمیٹی بھی ہوگی، جس کا کنوئیر ڈویژنل کمشنر ہوگا جب کہ ممبر ان میں ریجنل پولیس آفسر یا کیپیٹل سٹی پولسی آفیسر ، ریجنل آفیسر، اسپشل برانچ پولیس ، ریجنل افسر ، کاؤنٹر ٹررازم ڈیپارٹمنٹ پولیس کے علاوہ وفاقی حکومت کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے نمائندگان اور کوئی ایسا شخص جسے کنوئیر مقرر کرے ہوں گے ۔ جبکہ متعلقہ ضلع کا ایڈیشنل کمشنر اس کمیٹی کا سیکرٹری ہوگا ۔


مجوزہ بل کے مطابق انٹیلیجنس کمیٹی ہر ماہ کم از کم ایک بار اجلاس منعقد کرے گی۔ اجلاس کا وقت، مقام اور طریقہ کار قواعد کے مطابق ہوگا، اور جب تک قواعد نہ بنیں، کمیٹی خود یہ طے کرے گی۔اجلاس کی صدارت کنوینر کرے گا، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کا نامزد کردہ رکن اجلاس کی صدارت کرے گا۔اجلاس کے لئے کم از کم ایک تہائی اراکیں کی موجودگی ضروری ہوگی ۔ کمیٹی کے تمام فیصلوں کو آئندہ کے لئے باقاعدہ ریکارڈ میں درج کیا جائے گا۔اجلاس کی کارروائی ختم ہوگی اور اسے درست تصور کیا جائے گا، جب تک اس کے خلاف ثبوت نہ ملے۔اگر کمیٹی میں کوئی نشست خالی ہو یا اس کی تشکیل میں کوئی کمی ہو، تب بھی اس کے فیصلے موثر ہونگے۔


کوئی بھی شخص غیر سماجی رویے کا مرتکب قرار پائے گا اگر وہ غیر قانونی طور پر شراب بنائے یا فروخت کرے۔ شراب نوشی یا جوا کھیلنے کی جگہ چلاتا ہو یا ایسی جگہ رکھتا ہو جہاں منشیات یا نشہ آور اشیاء رکھی یا استعمال کرتا ہو۔دلالی کر کے جھوٹی گواہیاں بنوانا، جعلی دستاویزات تیار کروانا یا سرکاری ملازمین کے ساتھ بدعنوانی میں ملوث ہونا بھی غیر سماجی رویہ ہوگا ۔

قحبہ خانہ چلاتا ہو یا جسم فروشی کی کمائی پر گزارہ کرتا ہو، خیرات کے نام پر دھوکہ دہی سے پیسے اکٹھے کرے یا  عوامی جگہ پر گندی یا گالی گلوچ والی زبان استعمال کرنے کا عادی ہو غیر سماجی رویے کا مرتکب قرار پائے گا ۔ قاتون کے تحت لوگوں کو، خاص طور پر خواتین، لڑکیوں یا 18 سال سے کم عمر افراد کو تنگ کرے یا ہراساں کرے،عوامی جگہ پر فحش حرکات کرے، عوامی جگہ پر لڑائی جھگڑا کرے یا ہنگامہ آرائی کرے سزا کاحقدار ہوگا ۔

اسی طرح دھمکیوں، افواہوں یا جھوٹی خبروں کے ذریعے (زبانی، تحریری یا سوشل میڈیا پر) عوام میں خوف یا پریشانی پھیلائے خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرے، مثلاً گاڑی پر پولیس لائٹس لگا کر یا سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ گھوم کر دھمکی دے کر یا ڈرا دھمکا کر لوگوں سے پیسے یا فائدہ حاصل کرے۔جانتے بوجھتے چوری کا مال خریدے یا اس میں لین دین کرے۔ ایسا رویے بھی غیر سماجی قرار پائیں گے ۔

بل کے مندرجات میں جن  عوامل کو غیر سماجی قرار دیا گیا ہے ، ان میں سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز یا فحش مواد شیئر کرنا، اسلحہ دکھانا یا ہوائی فائرنگ کرنا،  جعل سازی، دھوکہ دہی، بلیک مارکیٹنگ یا غیر قانونی کاروباری لین دین کو بطور ذریعہ معاش اپنانا شامل ہے۔

جعلی کرنسی استعمال،  منظم جرائم پیشہ گروہ کا رکن ہو یا اسے چلا رہا ہو، یا سائبر کرائم، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، زمینوں پر قبضہ یا منشیات کی اسمگلنگ  اور جانوروں پر ظلم کرنا  اور سڑکوں پر ایسی رکاوٹیں کھڑی کرے جس سے ٹریفک متاثر ہو ، بھی غیر سماجی رویہ شمار ہوگا۔


ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی، کسی پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر، اسسٹنٹ کمشنر یا سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر کی رپورٹ پر، یا انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر یا کسی شخص کی تحریری شکایت پر، کسی بھی سرگرمی کو غیر سماجی رویہ قرار دے سکتی ہے،  ابتدائی طور پر اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے معاملے کی انکوائری کروا سکتی ہے تاکہ رپورٹ کی تصدیق ہو سکے۔مبینہ غیر سماجی رویے کے مرتکب شخص کو نوٹس جاری کر سکتی ہے، جس میں اسے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے اور یہ بتانے کا موقع دیا جائے گا کہ اس کے خلاف ایکٹ کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ انکوائری رپورٹ موصول ہونے پر، اگر کمیٹی مناسب سمجھے، تو وہ درج ذیل میں سے ایک یا زیادہ احکامات جاری کر سکتی ہے


کسی بھی سزا یافتہ شخص کو چھ ماہ کیلئے ضمانتی مچلکے جمع کرانا ہوں گے۔اسی طرح متعلقہ اتھارٹی کو اس شخص کا نام پی این آئی ایل( پروویژنل نیشنل آئیڈینٹفکیشن لسٹ) لسٹ پر ڈالنے کی سفارش کی جائے گی ۔ اس شخص کا پاسپورٹ ضبط ہوگا ، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بلاک کرنے کی سفارش کرنا۔ اسکو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کیلئے اکاونٹ ختم کرنے کیساتھ ساتھ الیکٹرانک آلات (موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ) ضبط ہوجائیں گے۔ غیر سماجی رویوں کے حامل شخص کے  اسلحہ لائسنس کی منسوخی کیساتھ ساتھ اسلحہ ضبط کیا جائےگا۔ منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد ضبط ہوگی ،  بینک اکاؤنٹس منجمد ہونگے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی (Surveillance) کی جائے گی ۔


ایسا شخص عادی مجرم ہوگا  جس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو اور چالان جمع ہو چکا ہو، جو شیڈول میں درج جرائم میں ایک سے زائد بار گرفتار ہو چکا ہو۔جس کے خلاف معتبر شواہد ہوں کہ وہ معاشرہ دشمن سرگرمیوں یا منظم جرائم میں ملوث ہے۔ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی، پولیس سربراہ کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ مجسٹریٹ کو کسی شخص کو عادی مجرم قرار دینے کی سفارش کرے۔ مجسٹریٹ، پولیس افسر کی درخواست پر، متاثرہ شخص کو سماعت کا موقع دینے کے بعد اسے عادی مجرم قرار دے سکتا ہے۔مجسٹریٹ عادی مجرم کو کم از کم تین ماہ کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس لگانے کا حکم دے گا اور اسے ضمانتی مچلکا اور تحریری یقین دہانی جمع کرانی ہوگی۔


الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس نامزد پولیس افسر یا سرکاری ایجنسی کی طرف سے لگائی جائے گی۔ مانیٹرنگ کی شرائط کی خلاف ورزی پر تین ماہ سے تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ڈیوائس کو نقصان پہنچانے یا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر ایک سے تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ، نیز ڈیوائس کے نقصان کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ متاثرہ شخص اس فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر سیشن کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔

تصاویر، فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرکس عادی مجرم کی تصاویر، فنگر پرنٹس، ہینڈ رائٹنگ کے نمونے اور دستخط الیکٹرانک ڈیٹا بیس میں محفوظ کیے جائیں گے۔ کمیٹی ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کا حکم بھی دے سکتی ہے۔


کمیٹی کے حکم کی خلاف ورزی پر ایک سے چار سال قید اور پانچ لاکھ سے پندرہ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔دوسری بار خلاف ورزی پر کم از کم تین سال قید اور تیسری بار پر چار سال قید مع جرمانہ (کم از کم بیس لاکھ روپے) ہوگی۔اگر کوئی سرکاری ملازم جان بوجھ کر ان احکامات کی خلاف ورزی میں مدد کرتا ہے، تو اسے چھ ماہ سے دو سال تک قید اور محکمانہ تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 سیکشن 12 کے سب سیکشن (3) کے تحت تشکیل دی گئی اپیلٹ کمیٹی کے حکم کے خلاف اپیل، حکومت کی جانب سے آفیشل گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے تشکیل دیے گئے ٹربیونل کے سامنے دائر کی جا سکتی ہے۔


اس ایکٹ کے تحت تمام مقدمات کی سماعت مجسٹریٹ کرے گا۔ کسی دوسرے قانون مںر درج ہونے کے باوجود، اس ایکٹ کے تحت ہر قابل سزا جرم قابلِ دست اندازی (Cognizable) اور ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) ہوگا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے