لاہور: (پنجاب پوسٹ )اساتذہ سے متعلق اپنے حالیہ بیان پر جاری تنازع کے بعد وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور جس تناظر میں انہوں نے بات کی، اس کے شواہد بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ ان کی تنقید تمام اساتذہ پر نہیں بلکہ صرف ان عناصر پر تھی جو بدعنوانی، نقل، غیر حاضری اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔ ان کے بقول اگر ضرورت پڑی تو وہ متعلقہ اساتذہ کے نام بھی سامنے لا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر میں پنجاب ٹیکنیکل بورڈ کے امتحانات ملتوی، پنجاب میں شیڈول برقرار
رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا، جس سے بعض عناصر کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہدف وہ افراد ہیں جو بچوں کے مستقبل، تعلیمی نظام اور ریاست کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب کے 80 فیصد اساتذہ دیانتدار، محنتی اور قابلِ احترام ہیں اور حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم جو اساتذہ نقل مافیا، امتحانی بے ضابطگیوں، غیر حاضری یا نتائج میں ردوبدل جیسے معاملات میں ملوث ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقدس پیشے کی آڑ میں بدعنوانی کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا اور بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کا ہر صورت احتساب ہوگا، جبکہ محنتی اساتذہ کی عزت اور بدعنوان عناصر کا احتساب ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔









