پتوکی (پنجاب پوسٹ) لاہور ڈویژن کے علاقے پتوکی میں ریلوے کی قیمتی اراضی پر مبینہ غیر قانونی تجاوزات اور قواعد کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ریلوے مین لائن کے انتہائی قریب نرسریاں قائم کیے جانے اور نہر سے پانی منتقل کرنے کے لیے زیرِ زمین پائپ بچھانے کے الزامات نے ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی ذرائع اور شہریوں کے مطابق پتوکی میں ریلوے مین لائن کے ساتھ واقع اراضی پر عرصہ دراز سے نرسریاں قائم ہیں، حالانکہ ریلوے قوانین کے تحت مین لائن سے 100 فٹ کے اندر کسی بھی قسم کی تعمیرات یا مستقل سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر کئی مقامات پر ریلوے ٹریک سے چند فٹ کے فاصلے پر کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔
معاملے میں ایک اور اہم انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ قریبی نہر سے موٹر کے ذریعے پانی کھینچ کر زمین کے اندر بچھائے گئے پائپ کے ذریعے ریلوے ٹریک کے دوسری جانب منتقل کیا جاتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پائپ لائن ریلوے ٹریک کے نیچے سے گزرتی رہی، لیکن متعلقہ حکام نے نہ تو اس کا نوٹس لیا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی۔
مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ سرگرمیاں کسی ایک دن یا چند ہفتوں کی نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری ہیں۔ شہریوں کے مطابق اگر ریلوے اراضی پر یہ تمام کام کھلے عام ہوتے رہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ افسران اور ریلوے پولیس اس صورتحال سے لاعلم کیسے رہے؟
اس حوالے سے آئی او ڈبلیو اوکاڑہ اور ریلوے پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یا تو متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں یا پھر مبینہ طور پر چشم پوشی اختیار کی گئی، جس کے باعث ریلوے کی سرکاری زمین پر غیر قانونی سرگرمیاں فروغ پاتی رہیں۔
ریلوے قوانین کے ماہرین کے مطابق مین لائن کے قریب اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ریلوے انفراسٹرکچر اور ٹرین آپریشنز کی حفاظت کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ ایسے علاقوں میں غیر مجاز تعمیرات اور زیرِ زمین تنصیبات مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سبب بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب لاہور ڈویژن میں ریلوے اراضی کے تحفظ سے متعلق انتظامیہ کے دعوے بھی اس معاملے کے بعد سوالوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ شہری اور سماجی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مبینہ تجاوزات، زیرِ زمین پائپ لائن اور متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پتوکی میں سامنے آنے والے اس معاملے نے ایک بار پھر ریلوے اراضی کے تحفظ، نگرانی کے نظام اور لاہور ڈویژن میں انتظامی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے جواب کا انتظار نہ صرف مقامی شہری بلکہ ریلوے کے اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی کیا جا رہا ہے۔














