ایل این جی کے ساتویں کارگو کی درآمد کے باوجود ملک میں گھریلو صارفین کے لیے نئے گیس کنکشنز کی بحالی کا عمل شروع نہ ہو سکا جبکہ گیس لوڈشیڈنگ میں بھی کوئی واضح کمی سامنے نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 2 لاکھ 6 ہزار سے زائد نیو گیس کنکشنز کی درخواستیں تاحال التوا کا شکار ہیں۔تفصیلات کے مطابق 85 ہزار 8 سو سے زائد صارفین ایسے ہیں جنہوں نے ڈیمانڈ نوٹس جمع کرا دیے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے کنکشنز تاحال نصب نہیں کیے گئے۔ اسی طرح ایک لاکھ سے زائد صارفین نے 25 ہزار روپے کا ارجنٹ واوچر بھی جمع کروایا ہوا ہے، تاہم ان کی درخواستیں بھی مختلف مراحل پر روک دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:قصور: نجی اسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ پیوندکاری کا بھانڈا پھوٹ گیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے گیس کنکشنز کی معطلی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سوئی ناردرن گیس کی جانب سے اس پابندی کے حوالے سے صارفین کو باضابطہ طور پر کوئی آگاہی بھی فراہم نہیں کی گئی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مہنگی ایل این جی کو سسٹم گیس میں شامل کرنے کے بجائے زیادہ تر پاور پلانٹس کو فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین کے لیے گیس کی دستیابی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس وقت شہریوں کو صرف چند گھنٹے گیس میسر آ رہی ہے، اور کھانا پکانے کے اوقات میں بھی تقریباً دو دو گھنٹے گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً دو ماہ قبل گیس کی قلت کے باعث نئے گھریلو کنکشنز پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم سوئی ناردرن حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ کوئی باقاعدہ پابندی موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کنکشنز کو عارضی طور پر روکا گیا ہے اور جلد ہی دوبارہ کنکشنز جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔








