قصور میں لاہور کی لڑکی کے گردے کی غیر قانونی پیوند کاری ، نجی اسپتال سیل

قصو( محمد احمد نمبردار ) قصور کے علاقے اسٹیل باغ چوک میں قائم ایک نجی اسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ پیوندکاری کا انکشاف کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کارروائئ کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ اسپتال کا عملہ اور دیگر مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے

قصور سٹیل باغ چوک نجی ہسپتال میں لاہور سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ سکینہ بی بی کو مبینہ گردہ پیوندکاری کے لیے والدہ اور کزن کے ہمراہ قصور کے نجی اسپتال لایا گیا

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں ایک کروڑ ستر لاکھ سے زائد افراد گردوں کی بیماریوں کا شکار ہیں، پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل

ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران خفیہ اطلاع موصول ہونے پر پولیس اور انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسپتال پر چھاپہ مارا جہاں نوید، شہباز اور سید عمار نامی تین افراد کو حراست میں لیا گیا، جن کے بارے میں ابتدائی طور پر بتایا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر خاتون کے غیر قانونی ٹرانسپلانٹ سے متعلق معاملات میں ملوث تھا

انتظامیہ نے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے شبہ میں نجی اسپتال کو سیل کر دیا، جبکہ متاثرہ خاتون کو ابتدائی طبی امداد کے بعد بابا بلھے شاہ ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا تاہم حالت تشویشناک ہونے پر انہیں مزید علاج کے لیے لاہور ریفر کر دیا گیا

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ خاتون کا گردہ پہلے ہی ٹرانسپلانٹ ہو چکا تھا یا نجی اسپتال میں ٹرانسپلانٹ کی کوشش کی جا رہی تھی ادھر نجی اسپتال کے باہر کھڑی ایک گاڑی سے مبینہ طور پر آپریشن میں استعمال ہونے والے آلات بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں تحویل میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں : آلائشوں سے چربی تیار کرنے والے غیر قانونی یونٹ پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ، 3 من سے زائد چربی ضبط

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے