لاہور:(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ میں گجرانوالہ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر زیرِ حراست نوجوانوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر گنجا کرنے اور ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے پر اہم سماعت ہوئی۔درخواست آئی جی پنجاب، سی پی او گوجرانوالہ اور آر پی او گوجرانوالہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کے لیے دائر کی گئی تھی۔سماعت جسٹس Justice Ali Zia Bajwa نے کی، جس میں درخواست گزار محمد عمر کی جانب سے ایڈووکیٹ احمد شیر جٹ پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے واضح حکم کے باوجود پولیس نے مبینہ طور پر زیرِ حراست افراد کو گنجا کیا اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کیں، جو کہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔دوسری جانب سرکاری وکیل نے مؤقف دیا کہ پولیس نے کسی آفیشل پیج پر ایسی کوئی ویڈیو اپ لوڈ نہیں کی، اور یہ بھی کہا گیا کہ ممکن ہے نوجوانوں نے خود اپنے بال منڈوا کر ویڈیو وائرل کی ہو۔اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی گوجرانوالہ پولیس نے ملزمان کے ساتھ ایسا سلوک کیا؟ عدالت نے قرار دیا کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔عدالت نے آر پی او گوجرانوالہ سے 23 جون تک تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی ملتوی کر دی۔عدالت نے واضح کیا کہ زیرِ حراست افراد کی عزتِ نفس اور انسانی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔













