کشتی حادثات کے دو ملزمان کی ضمانتوں پر لاہور ہائیکورٹ کے اہم فیصلے


لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلے اٹلی اور لیبیا کشتی حادثات سے متعلق دو مختلف مقدمات میں ملزمان کی ضمانتوں پر اہم فیصلے جاری کر دیے۔
عدالت نے اٹلی کشتی حادثہ کیس میں انسانی اسمگلنگ کے ملزم محمد ارشد کی ضمانت درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس تنویر احمد شیخ نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ معصوم شہریوں کو بیرون ملک سنہری خواب دکھا کر موت کے منہ میں دھکیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں کا طریقہ واردات انہیں عادی اور خطرناک مجرم ظاہر کرتا ہے، لہٰذا وہ ضمانت کے حقدار نہیں۔

عدالت کے مطابق ملزم پر مدعی سے اٹلی بھجوانے کے بہانے 25 لاکھ روپے وصول کرنے کا الزام ہے، جبکہ مدعی کا بیٹا لیبیا کے راستے اٹلی جاتے ہوئے کشتی حادثے میں جاں بحق ہو گیا تھا۔ ملزم کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی میں درج ہے۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے لیبیا کشتی حادثہ کیس کے مرکزی ملزم شفاقت حسین کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس شہباز رضوی نے کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شفاقت حسین کو لیبیا سے واپسی پر بلاجواز گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے خلاف رقم وصولی کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔ مزید کہا گیا کہ 2023 میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود تاحال ٹرائل شروع نہیں ہو سکا۔ یہ مقدمہ کشتی حادثے کے متاثرہ نوجوان انیس کے والد ملازم حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

ایک تبصرہ برائے “کشتی حادثات کے دو ملزمان کی ضمانتوں پر لاہور ہائیکورٹ کے اہم فیصلے”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے