لاہور(پنجاب پوسٹ) 41 سال پرانے دوہرے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم تاج دین کو بڑا ریلیف مل گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جسے عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔ مقدمہ 28 اکتوبر 1985 کو رحیم یار خان میں درج ہوا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2017 میں جرم ثابت ہونے پر تاج دین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ جرم ثابت کرنے اور مؤثر طبی شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ میڈیکل افسر کی عدالت میں عدم پیشی استغاثہ کے مقدمے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی جبکہ گواہوں کے بیانات میں بھی نمایاں تضادات پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: صادق آباد میں 19 سالہ لڑکی کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کا کیس، مقدمہ درج، تفتیش جاری
فیصلے کے مطابق گواہوں کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور وقوعے کی بیان کردہ کہانی مشکوک تھی، جس کے باعث پراسیکیوشن کا مقدمہ شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس تفتیش اور شواہد میں موجود خامیوں کی وجہ سے سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شک کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی اور فائدۂ شک ملزم کا قانونی حق ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سزا برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہوتے ہیں۔
عدالت نے عمر قید کی سزا ختم کرتے ہوئے جیل میں قید ملزم تاج دین کو فوری طور پر رہا کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔








