ساہیوال، پنجاب پولیس پر ہراسگی کا الزام لگانے والی خاتون کی حقیقت سامنے آگئی

ساہیوال ( پنجاب پوسٹ ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کھلی کچہری میں سامنے آنے والی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خاتون کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ ساہیوال پولیس کے مطابق ذاتی مرضی کی تفتیش کروانے کیلئے خاتون نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ غلہ منڈی کے علاقہ میں گھریلو تنازعہ کے دوران دونوں بھائیوں کے درمیان جھگڑا پیش آیاجس میں خواتین بھی شامل ہوئیں۔ دونوں فریقین کے میڈیکل معائنے کے بعد مقدمات اور کراس ورشن درج کیے گئے۔

ڈی پی او ساہیوال محمد عثمان ٹیپو نے دونوں فریقین کو سن کر تمام حقائق کا جائزہ لیا اور میرٹ پر تفتیش مکمل کروائی۔ بعد ازاں عدالت میں دونوں فریقین کی عبوری ضمانتیں کنفرم ہو گئیں ۔

اریج نعمان سوشل میڈیا کا سہارا لیکر پولیس کو محض حراساں کرکے مرضی کی تفتیش کروانا چاہتی تھی یہ ایک گھریلو تنازعہ ہے جس کے پس منظر میں جائیداد اور خاندانی اختلافات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

مقامی پولیس نے تفتیش میرٹ پر کی اور ملزم عثمان کو گنہگار تحریر کیا اور کراس ورشن میں اریج نعمان کے خاوند نعمان کو بہن اور بھابھی پر تشدد کرنے پر گنہگار تحریر کیا۔
جبکہ عدالت مجاز نے ملزمان کی عبوری ضمانتیں کنفرم کیں۔اور چالان مکمل عدالت میں بھجوایا جا رہا ہے تاکہ کورٹ میں ٹرائل کے بعد سزا جزا کا عمل ہو۔جو کہ عدالت مجاز کا اختیار ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے پولیس انصاف دینے کی بجائے ہراساں کر رہی ہے اور اسے وزیر اعلی پنجاب سے بھی انصاف کی امید نہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے